Skip to main content

موبائل فون خریدنے والو اس پیغام کو ضرور پڑھیں 😢😢😢😢😢

مہنگے
ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں بیٹھے
چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا
ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ
جانے کیا مانگ رہا تھا؟

کپڑوں میں پیوند لگا تھا
مگر
نہایت صاف تھے
اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے

بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے
اور
وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا
جیسے ہی وہ اٹھا
ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا
اور پوچھا
اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ھو؟
اس نے کہا کہ
میرے ابو مر گۓ ھیں
ان کےلئے جنت

میری امی ہر وقت
روتی رہتی ھے
اس کے لئے صبر

میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ھے
اس کے لئے رقم

اجنبی نے سوال کیا

کیا آب سکول جاتے ھو؟
بچے نے کہا
ہاں جاتا ھوں
اجنبی نے پوچھا
کس کلاس میں پڑھتے ھو؟
نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا
ماں چنے بنا دیتی ھے
وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں
بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں
ہمارا یہی کام دھندا ھے
بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رھا تھا

تمہارا کوئ رشتہ دار
اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟
امی کہتی ھے غریب کا کوئ رشتہ دار نہیں ھوتا
امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی
لیکن انکل جب ھم 
کھانا کھا رہے ھوتےہیں
اور میں کہتا ھوں
امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو
وہ کہتی ھیں میں نے
کھالیا ھے
اس وقت لگتا ھے
وہ جھوٹ بول رھی ھیں.

بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جاۓ تو تم پڑھوگے؟
بچہ:بالکل نہیں
کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ھیں
ہمیں کسی پڑھے ھوۓ نے کبھی نہیں پوچھا
پاس سے گزر جاتے ھیں
اجنبی حیران بھی تھا
اور
پریشان بھی
پھر اس نے کہا کہ
ہر روز اسی مسجد میں آتا ھوں
کبھی کسی نے نہیں پوچھا
یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے
مگر
ہمیں کوئی نہیں جانتا
بچہ زور زور سے رونے لگا
انکل جب باپ مر جاتا ھے تو سب اجنبی بن جاتے ھیں
میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا

ایسے کتنے معصوم ھوں گے
جو حسرتوں سے زخمی ھیں

بس ایک کوشش کیجۓ
اور
اپنے اردگرد ایسے ضروت مند
یتیموں اور بےسہارا کو
ڈھونڈئے
اور
ان کی مدد کیجئے

موبائل اور لوڈ کے دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں

شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ھو

تصویر یا ویڈیو بھیجنے کی جگہ یہ میسج کم ازکم ایک یا دو گروپ میں ضرور شئیر کریں

خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں جزاک اللہ

           (ایک دفعہ شیر ضرور کیجیئے گا پلیز پڑھ کر)

Comments

Popular posts from this blog

تفسیر القرآن الکریم مفسر: مولانا عبد السلام بھٹوی

سورۃ نمبر 1 الفاتحة آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ تفسیر: صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے...

A Prelude To A Dance

Helen heard a cry for help. As she neared the river, the cry grew louder. A small crowd gathered at the iced edge. Looking out, she could see a child had broken through the ice into the freezing water. People had their phones out calling 911 or taking video, but no one seem inclined to actually help the little girl. As she cried out again for help, Helen did not think twice. She wrapped a dead vine around her waist and went out onto the thin ice. It broke. The freezing water seeped into her very bones. That did not matter. She was going to get to that child. People on the shore seemed more inclined to help now. Two bigger men held the vine as Helen broke at the ice with her raw red fingers. The child seemed to rally as she got closer. She seemed more willing to hold on, and then, without warning, under the water she went. Helen did not even think about it, under the water she went too, swimming as fast as her arms and legs would let her. She felt hair and grabbed it. Kicking with all o...

Man Pays Bills with Spirits of Ancestors

Anchorage, AK -18 Feb. 2009- Staff. Utilities workers had to trek through frigid and icy conditions to a remote hillside 20 miles outside of Anchorage to settle Herman Moses’ account. While they deal with delinquent accounts on a regular basis, the workers were lost for words when Moses offered them sevearal of his dead relatives as payment. The Anchorage police department eventually resolved the situation, but not before Moses insisted on his bizarre proposal for several hours.  Moses’ power and water bills, which hadn’t been paid in nearly 10 months, were lying in a heap by the door when they arrived, the workers say. When confronted face to face by the threat of having his power and water shut off, however, he offered a barter: several lamps, a vacuum cleaner and a non-functioning television, all which Moses claimed housed the spirits of his mother, aunt and many cousins.   After a long discussion, the utilities workers called the police to mediate. Shortly after police arrive...