Skip to main content

(باب: میٹھی چیز اور شہد کا بیان)



سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں نہ تو خمیری روٹی کھاتا تھا اور نہ ریشم ہی پہنتا تھا اور نہ کوئی لونڈی یا غلام میری خدمت کرتا تھا، میں بھوک کی شدت کی بنا پر اپنا پیٹ سنگریزوں سے ملائے رکھتا تھا، کبھی میں کسی آدمی سے قرآن مجید کی کوئی آیت پوچھتا تھا، حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی تھی، مقصد ہوتا کہ وہ مجھے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلائے۔ مسکینوں کے حق میں سب سے بہتر شخص سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھےوہ ہمیں (اپنے ہمراہ گھر) لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا وہ ہمیں کھلا دیتے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ وہ ہماری طرف کپی نکال کر لے آتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا ہم اسے پھاڑ کر جو اس میں لگا ہوتا اسے چاٹ لیتے تھے۔صحیح بخاری: 5432.

Comments

Popular posts from this blog

تفسیر القرآن الکریم مفسر: مولانا عبد السلام بھٹوی

سورۃ نمبر 1 الفاتحة آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ تفسیر: صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے...

بھوت یا بلی کا مسئلہ ہیلو دوست ، آج میں آپ کو ماضی کی ایک اور کہانی سنانے جارہا ہوں۔ کہانی ڈارون ہے

 

Man Pays Bills with Spirits of Ancestors

Anchorage, AK -18 Feb. 2009- Staff. Utilities workers had to trek through frigid and icy conditions to a remote hillside 20 miles outside of Anchorage to settle Herman Moses’ account. While they deal with delinquent accounts on a regular basis, the workers were lost for words when Moses offered them sevearal of his dead relatives as payment. The Anchorage police department eventually resolved the situation, but not before Moses insisted on his bizarre proposal for several hours.  Moses’ power and water bills, which hadn’t been paid in nearly 10 months, were lying in a heap by the door when they arrived, the workers say. When confronted face to face by the threat of having his power and water shut off, however, he offered a barter: several lamps, a vacuum cleaner and a non-functioning television, all which Moses claimed housed the spirits of his mother, aunt and many cousins.   After a long discussion, the utilities workers called the police to mediate. Shortly after police arrive...