Skip to main content

ہم نے ایک کام کا آغاز کیا ہے جس میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے ہم چاہتے ہیں کہ رمضان

المبارک میں عید سے پہلے ہم سب مل کر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو 5 ارب درود کا تحفہ پیش کرے ۔ہم نے آغاز کر دیا ہے
آپ بھی 3 بار درود شریف پڑھ کر باقی دوستوں کو send کریں اس میسیج کو اتنا پھلا دے کہ یہ 30 رمضان تک forwad ہوتا رہے اور دنیا کہ ہر ایک مسلمان تک پہنچے
مہربانی کرکے رکھنا مت اپنا فرض ادا کرنا ایک مسلمان ہوکے۔

Comments

Popular posts from this blog

*بدل گئے ضمیر لوکاں دے*

خان پور: نامعلوم کار سوار پیٹرول پمپ مالکان کو چونا لگا گیا خان پور: نجی پیٹرول پمپ سے کار سوار نے پیٹرول ڈلوایا پیسے دئیے بغیر کار دوڑا دی۔پمپ انتظامیہ خان پور: فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفید کار سوار   پیٹرول ڈلواتے گاڑی بھگا گیا۔پمپ مالکان  خان پور۔کار سوار نے ساڑھے 5 ہزار کا پیٹرول بھروایا تھا۔پمپ انتظامیہ  خان پور۔اطلاع ملنے پر ظاہر پیر پولیس نے کار کی اور نوسربازوں کی تلاش شروع کردی  

تفسیر القرآن الکریم مفسر: مولانا عبد السلام بھٹوی

سورۃ نمبر 1 الفاتحة آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ تفسیر: صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے...