Skip to main content

سری لنکا کا روپیہ ایک ہی دن میں 200 سے 285 روپے فی ڈالر تک گر گیا ہے

سری لنکا نے تقریبا پانچ ممالک میں اپنے سفارتخانے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ حیران کن فیصلہ سری لنکا کی معاشی زوال کی وجہ سے ہوا کیونکہ حکومت اب ان سفارتخانوں کے اخراجات پوری نہیں کر سکتی اس کے علاوہ حکومت کے پاس تجارت کرنے کے پیسے بھی نہیں اور بہت جلد ملک دیوالیہ ہونے والا ہے۔
اس افسوسناک صورتحال کی وجہ وہی معاشی پالیسیاں ہیں جو 2018 تک ن لیگ کی حکومت پاکستان میں فالو کر رہی تھی۔
سری لنکا آئی ایم ایف، چین اور کئی دوسرے ممالک سے قرض لیتا تھا۔ اس قرض سے ڈالر کو مصنوعی کنٹرول کرتا۔ حکمران کرپشن میں مصروف رہےا۔ تجارت پر کوئی توجہ نہیں دی گئ۔ امپورٹس زیادہ تھیں اور ایکسپورٹس نہ ہونے کے برابر۔
بالکل وہی پالیسی جو اسحق ڈار چلارہا تھا۔
اب سری لنکا کے پاس قرض واپس کرنے کے لئے پیسہ نہیں۔ تیل اور دوسری ضروری اشیاء خریدنے کے لئے پیسہ نہیں۔ اور موجودہ حالات میں ان کو مزید قرض بھی نہیں مل رہا ہے۔ اب ملک دیوالیہ ہو گا اللہ نہ کرے اور جنہوں نے قرض دیا ہے وہی اس ملک کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ 
یہی حالات پاکستان کے ہونے والے تھے اگر اسحق ڈار مزید کچھ سال اور رہتا۔
سارے مقامی اور بین الاقوامی معاشی اداروں اور ماہرین کو پتہ ہے کہ کیسے موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو مردہ خانے سے نہ صرف نکالا بلکہ اس میں نئی جان ڈال دی۔ ہماری امپورٹس کم ہوئی اور ایکسپورٹس زیادہ ہوئی یعنی ہمارے خرچے کم ہوئے اور ہماری تجارت بڑھ گئی جس کی تازہ مثال جنوبی ایشیا میں سب سے کم بے روزگاری کی شرح کے لخاظ سے پاکستان سرفہرست ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا اس لئے ہوئے کیونکہ ہماری انڈسٹری موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف چل پڑی بلکہ نہایت تیزی کے ساتھ دوڑ پڑی۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسحق ڈار ابھی تک وزیر خزانہ ہوتا تو اب ہم بھی سری لنکا کے ساتھ اپنی موت دیکھ رہے ہوتے۔
اور اب دوبارہ یہی گدھ اس ملک کو نوچنے کے لئے جمع ہو چکے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

تفسیر القرآن الکریم مفسر: مولانا عبد السلام بھٹوی

سورۃ نمبر 1 الفاتحة آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ تفسیر: صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے...

A Prelude To A Dance

Helen heard a cry for help. As she neared the river, the cry grew louder. A small crowd gathered at the iced edge. Looking out, she could see a child had broken through the ice into the freezing water. People had their phones out calling 911 or taking video, but no one seem inclined to actually help the little girl. As she cried out again for help, Helen did not think twice. She wrapped a dead vine around her waist and went out onto the thin ice. It broke. The freezing water seeped into her very bones. That did not matter. She was going to get to that child. People on the shore seemed more inclined to help now. Two bigger men held the vine as Helen broke at the ice with her raw red fingers. The child seemed to rally as she got closer. She seemed more willing to hold on, and then, without warning, under the water she went. Helen did not even think about it, under the water she went too, swimming as fast as her arms and legs would let her. She felt hair and grabbed it. Kicking with all o...

Man Pays Bills with Spirits of Ancestors

Anchorage, AK -18 Feb. 2009- Staff. Utilities workers had to trek through frigid and icy conditions to a remote hillside 20 miles outside of Anchorage to settle Herman Moses’ account. While they deal with delinquent accounts on a regular basis, the workers were lost for words when Moses offered them sevearal of his dead relatives as payment. The Anchorage police department eventually resolved the situation, but not before Moses insisted on his bizarre proposal for several hours.  Moses’ power and water bills, which hadn’t been paid in nearly 10 months, were lying in a heap by the door when they arrived, the workers say. When confronted face to face by the threat of having his power and water shut off, however, he offered a barter: several lamps, a vacuum cleaner and a non-functioning television, all which Moses claimed housed the spirits of his mother, aunt and many cousins.   After a long discussion, the utilities workers called the police to mediate. Shortly after police arrive...