Skip to main content

پنجاب پولیس کے چھوٹے ملازمین کے لیے خوشخبری/ آئی جی پنجاب کا انتہائی خوش آئند اقدام


پنجاب پولیس اور اخوت فاؤنڈیشن کے درمیان سنٹرل پولیس آفس میں معاہدہ

ایم او یو کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت پنجاب پولیس اور اخوت فاؤنڈیشن کے درمیان کیا گیا۔

ایم او یو کے تحت پولیس کے چھوٹے ملازمین کو گھر بنانے کیلئے آسان اقساط پر 15 لاکھ روپے تک قرض مل سکیں گے ۔ آئی جی پنجاب

قرض کی واپسی ملازمین کی تنخواہ میں سے 10 سے 15 سال تک دورانیہ میں ماہانہ اقساط سے کی جائے گی۔ آئی جی پنجاب


پولیس ملازمین بالخصوص کم تنخواہ والے سٹاف کی ویلفیئر میری اولین ترجیح ہے ۔ راؤ سردار علی خان

اس سہولت کا فائدہ 50 ہزار سے کم تنخواہ والے ملازمین کو ہوگا جن کیلئے ذاتی گھر کا حصول انتہائی مشکل ہے۔ آئی جی پنجاب

اس سہولت کی بدولت ذاتی گھر سے محروم پولیس ملازمین ذاتی چھت حل کرسکیں گے۔ آئی جی پنجاب

اخوت فاؤنڈیشن کے چئیرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے پنجاب پولیس کے ساتھ معاہدے کو احسن اقدام قرار دیا۔

اخوت فاؤنڈیشن کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کی مدد اور انہیں خود مختار بنانا ہے۔ ڈاکٹر مجد ثاقب چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن

پولیس کے کم تنخواہ والے ملازمین اس معاہدہ سے مستفید ہوں گے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب

تمام اضلاع کے پولیس ملازمین قرض کے حصول کیلئے سنٹرل پولیس آفس میں ویلفیئر برانچ کو درخواستیں بھجوائیں گے ۔

ڈی آئی جی ویلفیئر درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اخوت ہیڈ آفس بھجوائیں گے۔

ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر فاروق مظہر اور سی ای او اخوت اسلامک مائیکرو فنانس ڈاکٹر کامران شمس نے ایم او یو پر دستخط کیے۔

آخر میں آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان اور چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب کے درمیان سوویئنیرز کا تبادلہ کیا گیا۔

تقریب میں ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ علی عامر ملک، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز شہزاد سلطان، ڈی آئی جی ویلفیئر عبدالغفار قیصرانی اور اخوت فاؤنڈیشن کی جانب سے ڈاکٹر کامران شمس نے شرکت کی ۔

ڈی پی آر پنجاب پولیس

Comments

Popular posts from this blog

تفسیر القرآن الکریم مفسر: مولانا عبد السلام بھٹوی

سورۃ نمبر 1 الفاتحة آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ تفسیر: صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے...

A Prelude To A Dance

Helen heard a cry for help. As she neared the river, the cry grew louder. A small crowd gathered at the iced edge. Looking out, she could see a child had broken through the ice into the freezing water. People had their phones out calling 911 or taking video, but no one seem inclined to actually help the little girl. As she cried out again for help, Helen did not think twice. She wrapped a dead vine around her waist and went out onto the thin ice. It broke. The freezing water seeped into her very bones. That did not matter. She was going to get to that child. People on the shore seemed more inclined to help now. Two bigger men held the vine as Helen broke at the ice with her raw red fingers. The child seemed to rally as she got closer. She seemed more willing to hold on, and then, without warning, under the water she went. Helen did not even think about it, under the water she went too, swimming as fast as her arms and legs would let her. She felt hair and grabbed it. Kicking with all o...

Man Pays Bills with Spirits of Ancestors

Anchorage, AK -18 Feb. 2009- Staff. Utilities workers had to trek through frigid and icy conditions to a remote hillside 20 miles outside of Anchorage to settle Herman Moses’ account. While they deal with delinquent accounts on a regular basis, the workers were lost for words when Moses offered them sevearal of his dead relatives as payment. The Anchorage police department eventually resolved the situation, but not before Moses insisted on his bizarre proposal for several hours.  Moses’ power and water bills, which hadn’t been paid in nearly 10 months, were lying in a heap by the door when they arrived, the workers say. When confronted face to face by the threat of having his power and water shut off, however, he offered a barter: several lamps, a vacuum cleaner and a non-functioning television, all which Moses claimed housed the spirits of his mother, aunt and many cousins.   After a long discussion, the utilities workers called the police to mediate. Shortly after police arrive...